KARACHI: Sindh High Court has ordered removal of former president Pervez Musharraf’s name from government’s Exit Control List (ECL), SAMAA reported.A two-member bench comprising Justice Shahnwaz Tariq and Justice Muhammad Ali Mazhar announced a brief ruling, allowing the former army chief to fly abroad.In its ruling, the bench said federal government can file an appeal against the ruling within 15 days; therefore, the decision will be effective after 15 days.Musharraf had filed an appeal in the SHC seeking removal of travel ban to visit his ailing mother in Dubai and get treatment abroad; however, the federal government has refused to allow him, on the grounds that he is facing treason charges.The 70-year-old Musharraf was indicted in March on charges relating to his imposition of emergency rule in late 2007. The ex-general, who seized power in 1999 and resigned in 2008, has pleaded "not guilty" to the charges.
He faces the death penalty if convicted of the charges, under Article 6 of the Constitution.
Musharraf is also on bail in three other major cases linked to his time in power including 2007 assassination of PPP leader Benazir Bhutto in a gun and suicide attack and murder of Baloch leader Nawab Akbar Bugti in 2006. – SAMAA
He faces the death penalty if convicted of the charges, under Article 6 of the Constitution.
Musharraf is also on bail in three other major cases linked to his time in power including 2007 assassination of PPP leader Benazir Bhutto in a gun and suicide attack and murder of Baloch leader Nawab Akbar Bugti in 2006. – SAMAA
کراچی....سندھ ہائیکورٹ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست منظورکرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ سابق صدر مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے۔عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ فیصلے پر 15 دن تک عمل درآمد نہیں ہوگا،اس عرصے میں مخالف فریق اپیل دائر کرسکتے ہیں۔سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس شاہ نواز طارق پر مشتمل بینچ نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق درخواست فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد 29 مئی کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ گذشتہ سماعت پر پرویز مشرف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے موقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت نے حقائق چھپائے جو بدنیتی پر مبنی ہےآئین کے مطابق کسی کو انفرادی طور پر آئین پامال کرنےکا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا، پرویز مشرف نے تین نومبر کی ایمرجنسی وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کی مشاورت سے لگائی۔ تمام شواہد و حقائق کا ریکارڈ موجود ہے لیکن اسے غائب یا ختم کیا جا رہا ہے۔ جواب میں موقف اختیار کیا گیا کہ سابق صدر کی والدہ علیل ہیں اور ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہےعلاج اور تیمارداری کےلئے وہ باہر جانا چاہتے ہیں ۔بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ کا 31مارچ 2014کاتفصیلی فیصلہ آنے کے بعد 8 اپریل 2013 کا عبوری حکم ختم ہوگیا ،اس لیے مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے ۔ اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے موقف اختیار کیا کہ سنگین غداری کے مقدمے کی تفتیش کے لئے پرویز مشرف کی ملک میں موجودگی ضروری ہے۔ سنگین غداری کے مقدمے کی سزا موت یا عمر قید ہے اور یہ سیاسی جرائم کے زمرے میں آتاہے۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے 8 اپریل 2013 کو اپنے حکم میں دو ہدایات دیں۔ ایک یہ کہ پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے اور اس حکم کو عدالت کی کسی ترمیم یا نظر ثانی تک برقرار رکھا جائے ۔دوسری ہدایت یہ تھی کہ وفاق کے تمام ادارے پرویز مشرف کو ملک سے باہر نہ جانے دیں۔ اٹارنی جنرل نےسندھ ہائی کورٹ کے اختیار سماعت پر بھی اعتراض برقرار رکھا۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو آج سنادیا گیا۔

No comments:
Post a Comment