اسلام آباد: وزارت داخلہ اور
ایف آئی اے کی جانب سے عدالتی حکم پر اضافی دستاویزات پرویزمشرف کو فراہم
نہ کرنے پر خصوصی عدالت نے حکم دیا ہے کہ سابق صدر کے وکلا کو 27 مئی تک
تمام اضافی دستاویزات فراہم کئے جائیں۔
سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کی سماعت جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں 3 رکنی عدالت نے کی۔ سماعت کے دوران استغاثہ کی ٹیم کےایک وکیل نصیرالدین نیئر نےعدالت کوبتایاکہ پرویزمشرف کی مزید دستاویزات فراہم کرنے کی درخواست وزارت داخلہ اور ایف آئی اے کو بھجوا دی ہے تاہم اس کا ابھی جواب نہیں ملا لہذا دستاویزات دینے کے لئے مزید وقت دیا جائے جس پر جسٹس فیصل عرب نےکہاکہ تاخیر اب آپ کی طرف سے ہورہی ہے وکیل صفائی کی طرف سے نہیں، آپ 27 مئی تک دستاویزات دے دیں جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت 3 جون تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کی درخواست پر غداری کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کو سابق صدر کو تحقیقاتی رپورٹ سمیت تمام دستاویزات 14 مئی تک فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ کیس کے حوالے سے تمام ریکارڈ تک رسائی ملزم کا قانونی حق ہے، تحقیقات کے دوران اگر کسی فرد نے کوئی اضافی نوٹ بھی لکھا ہے تو وہ بھی پرویز مشرف کے وکلاء کو فراہم کیا جائے۔
سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کی سماعت جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں 3 رکنی عدالت نے کی۔ سماعت کے دوران استغاثہ کی ٹیم کےایک وکیل نصیرالدین نیئر نےعدالت کوبتایاکہ پرویزمشرف کی مزید دستاویزات فراہم کرنے کی درخواست وزارت داخلہ اور ایف آئی اے کو بھجوا دی ہے تاہم اس کا ابھی جواب نہیں ملا لہذا دستاویزات دینے کے لئے مزید وقت دیا جائے جس پر جسٹس فیصل عرب نےکہاکہ تاخیر اب آپ کی طرف سے ہورہی ہے وکیل صفائی کی طرف سے نہیں، آپ 27 مئی تک دستاویزات دے دیں جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت 3 جون تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کی درخواست پر غداری کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کو سابق صدر کو تحقیقاتی رپورٹ سمیت تمام دستاویزات 14 مئی تک فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ کیس کے حوالے سے تمام ریکارڈ تک رسائی ملزم کا قانونی حق ہے، تحقیقات کے دوران اگر کسی فرد نے کوئی اضافی نوٹ بھی لکھا ہے تو وہ بھی پرویز مشرف کے وکلاء کو فراہم کیا جائے۔

No comments:
Post a Comment